فلسطین میں 65ملین یورو کی امداد سے بنائی املاک اسرائیل نے تباہ کر دی
زیورخ ،7جون؍(آئی این ایس انڈیا)اسرائیلی حکومت پوری ڈھٹائی اور تواتر کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی شہروں میں یورپی یونین کی جانب سے فراہم کردہ امداد کے تحت تعمیر کیے گئے فلسطینیوں کے عارضی مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک رپورٹ میں اسرائیلی فوج کی مسماری کی کارروائیوں کے چونکا دینے والے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں یورپی یونین کی معاونت سے تعمیر کردہ فلسطینیوں کے دسیوں عارضی شیلٹرز مسمار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 65ملین یورو کی خطیر امدادی رقم غارت کر دی گئی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیورو مڈل ایسٹ انسانی حقوق آبزرویٹری کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن میں فلسطینیوں کے عارضی شیلٹرز کی مسماری کی ظالمانہ کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2016ء کے پہلے تین ماہ میں اسرائیلی فوجیوں نے مکانات مسماری کی 165کارروائیوں میں دسیوں مکانات مسمار کیے ہیں۔ مسماری آپریشنزمیں شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2012ء سے 2015ء تک اتنے ہی عرصے میں 50انہدامی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں جب کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں 165انہدامی آپریشنز کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی چوتھائی میں یورپی یونین کی معاونت سے بنائے گئے 120مکانات مسمار کیے گئے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی اردن میں فلسطینیوں کی املاک کی مسماری کا سلسلہ سنہ 2001ء سے جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل اب تک 65ملین یورو مالیت کیمساوی املاک مسمار کر چکا ہے جب کہ 2014ء کی جنگ میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران 23ملین یورو کی املاک تباہ کی گئی تھیں۔